اے امیر المؤمنین علی ابن ابیطالب وصی رسول خدا آپ پر سلام ہو۔اے فاطمہ اے سیده خواتین عالمین، آپ پر سلام ہو۔ اے علی بن حسین ای عبادت گزاروں کے سید و سردار اور اے دیکھنے والوں کی آنکه کی ٹھنڈک، آپ پر سلام ہو۔ اے محمد بن علی اے بعد از نبی علم نبی صلی الله علیه و آله و سلم کے رازوں کے تالے کهولنے والے آپ پر سلام ہو۔ اے جعفر بن محمد صادق نیک کردار، امین آپ پر سلام ہو۔ اے موسیٰ بن جعفر پاک وپاکیزہ آپ پر سلام ہو۔ اے علی بن موسیٰ رضا، مرتضی آپ پر سلام ہو۔ اے محمد بن علی پرہیزگار آپ پر سلام ہو۔ اے علی بن محمد نقی خیر خواہ، امین آپ پر سلام ہو۔ اے حسن بن علی آپ پر سلام ہو۔ اے ان کے بعد جو وصی ہیں ان پر سلام ہو۔خدایا تو اپنے نور اور تابناک چراغ، اپنے ولی کے نمائندے، اپنے جانشین اور بندوں پر اپنی حجت کے اوپر سلام نازل فرما۔ اے بنت رسول خدا آپ پر سلام ہو۔ اے دختر فاطمہ و خدیجہ آپ پر سلام ہو۔اے دختر امیر المومنین آپ پر سلام ہو۔ اے دختر حسین و حسین آپ پر سلام ہو۔ اے دختر ولی خدا آپ پر سلام ہو۔ اے ولی خدا کی خواہر آپ پر سلام ہو۔ اے ولی خدا کی پھوپھی آپ پر سلام ہو۔ اے دختر موسی بن جعفر آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت و برکت ہو۔ سلام ہو آپ پر۔ خدا جنت میں ہمارے اور آپ کے در میان شناخت قائم فرمائے اور ہم کو آپ لوگوں کے گروہ میں محشور فرمائے۔ اپنے نبی کے حوض پر وارد فرمائے نیز آپ لوگوں پر خدا کا درود ہو۔ میں خدا سے درخواست کرتاہوں کہ وہ ہمیں آپ کے بارے میں خوشحال کرے اور فرج دکھائے۔نیز ہمیں اور آپ کو آپ کے جد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گروہ میں شمار فرمائے اور ہم سے آپ کی معرفت کو سلب نہ کرے۔ کیونکہ وہی سرپرست اور قدرت والا ہے۔ میں آپ کی محبت اور آپ کے دشمنوں سے برائت کے وسیلے سے خدا کی بارگاہ میں تقرب چاہتاہوں اور اس کی بارگاہ میں سر نیاز خم کرتاہوں۔نیز اس سے راضی ہوں۔ نہ ہی منکر ہوں نہ ہی مستکبر۔یہ تمام باتیں جو چیزیں محمد لائے ہیں اس پر یقین کے ساتھ کہہ رہاہوں نیز اس سے راضی ہوں۔اے مرے آقا اسی وسیلے سے تری توجہ کا طلبگار ہوں۔ خدایا تری خوشنودی اور خانہٴ آخرت چاہتاہوں۔اے فاطمہ جنت میں میری شفاعت فرمائیے کیونکہ آپ خدا کے نزدیک ایک خاص شان ومقام کی حامل ہیں۔خدایا میں تجھ سے درخواست کرتاہوں کہ ہمارا خاتمہ سعادت پر ہو۔پس اس ایمان کو ہم سے نہ چھین جو ہم میں موجود ہے۔تمام حرکت و جنبش خدا ہی کے وسیلے سے ہے جو بزرگ و برتر ہے۔ خدایا ہماری حاجت کو مستجاب فرما۔ اور اپنے کرم و عزت و رحمت و عافیت سے اسے قبول فرما نیز محمد اور ان کی آل پر درود و سلام نازل فرما۔ اے سب سے زیادہ مہربان۔امام رضا علیہ السلام اور لقب "معصومہ"حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا جنتی خاتون، عبادت اور خدا کی ساتھ راز و نیاز میں ڈوبی ہوئی، بدیوں سے پاک اور عالم خلقت کا شبنم ہیں۔ شاید اس بی بی کو لقب "معصومہ" اسی لئے ملا ہے کہ ماں زہراء سلام اللہ علیہا کی عصمت آپ سلام اللہ علیہا کے وجود میں جلوہ گر ہوگئی تھی۔ بعض روایات کی مطابق یہ لقب حضرت رضا علیہ السلام نے اپنی ہمشیرہ مطہرہ کو عطا فرمایا تھا۔جیسا کہ بلند اندیش اور سفید سیرت شیعہ فقیہ علامہ محمد باقر مجلسی (رہ) روایت کرتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: "مَنْ زَارَ الْمَعصُومَةَ بِقُمْ كَمَنْ زَارَنى= جو شخص قم میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کرے، گویا کہ اس نے میری زیارت کی ہے"(25)۔ کریمة اہل بیت علیہم السلامیہ لقب امام معصوم کی جانب سے سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا کو عطا ہؤا ہے جو آپ سلام اللہ علیہا کی مرتبت کی بلندی پر دلالت کرتا ہے۔انسان عبادت و بندگی خداوند عالم کے نتیجے میں مظہر ارادہ حق اور واسطہ فیض الٰہی قرار پا سکتا ہے، یہ ذات اقدس الہی کی عبودیت کا ثمرہ ہے چنانچہ خداوند عالم حدیث قدسی میں فرماتا ہے :"انا اقول للشیء کن فیکون اطعنی فیما امرتک اجعلک تقول للشیء کن فیکون(26) = اے فرزند آدم میں کسی چیز کے لئے کہتا ہوں کہ ہوجا! پس وہ وجود میں آجا تی ہے، تو بھی میرے بتائے ہوئے راستوں پر چل؛ میں تجھ کو ایسا بنادوں گا کہ کہے گا ہوجا ! وہ شیء موجود ہو جائے گی"۔امام صادق علیہ اسلام نے بھی فرمایا :"العبودیة جوھریة کنہها الربوبیة(27) = یعنی خدا کی بندگی ایک گوہر ہے جس کی نہایت اور اس کا باطن موجودات پر فرمانروائی ہے"۔اولیاء خدا جنہوں نے بندگی و اطاعت کی راہ میں دوسروں سے سبقت حاصل فرمائی اور اس راہ کو خلوص کے ساتھ طے کیا وہ اپنی اس با برکت عارضی زندگی میں بھی اور زندگی کے بعد بھی کرامات و عنایات کا منشأ ہیں۔ اور یه سب ان کی پاکیزہ زندگی کا نتیجہ ہے۔آستان قدس فاطمی قدیم الایام سے هی ہزاروں کرامات و عنایات ربانی کا مرکز و معدن رہا ہے، کتنے نا امید قلوب خدا کی فضل و کرم سی پر امید هوئی، کتنے تہی داماں، رحمت ربوبی سے اپنی جھولی بھر چکے؛ اور کتنے ٹهکرائے هوئے اس در پر آکر کریمہ اہلبیت سلام اللہ علیہا کے فیض و کرم سے فیضیاب ہوئے اور خوشحال و شادماں ہوکر لوٹے ہیں اور اولیاء حق کی ولایت کے سائے میں ایمان محکم کے ساتھ اپنی زندگی کی نئی بنیاد رکهی ہے۔ یہ تمام چیزیں اسی کنیز خدا کی روح کی عظمت اور خداوند متعال کی فیض و کرم کے منبع بے کراں کی نشاندہی کرتی ہیں اور ثابت کرتی ہیں که سیده معصومہ سلام اللہ علیہا کریمہ اہل بیت علیہ السلامہیں۔اب ہم دیکهتے ہیں که کریمہ اہل بیت علیہم السلام کا لقب کس طرح ظاهر ہؤا؟۔یه لقب در حقیقت ایک معاصر بزرگ مرجع تقلید کے والد بزرگوار کی رؤیائے صادقہ کے ذریعے ظاہر ہؤا ہے۔ خواب کچھ یوں ہے:آیت اللہ العظمی سید شہاب الدین مرعشی نجفی (رہ) کے والد ماجد مرحوم آيت اللّہ سيّد محمود مرعشى نجفى(رہ)، حضرت سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی قبر شریف کا مقام معلوم کرنے کی سعی وافر کررہے تھے اور اس سلسلے میں انہوں نے ایک مجرب ختم کا تعین کیا تا کہ اس طرح معلوم ہوجائے کہ ام ابیھا سلام اللہ علیہا کی گمشدہ قبر کہاں ہے؟ چالیس راتیں انہوں نے اپنا ذکر جاری رکھا۔ چالیسویں شب انہوں نے ختم مکمل کرلی اور دعا و توسل بسیار کے بعد آرام کرنے لگے تو آنکھ لگتے ہی عالم خواب میں حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام يا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔امام علیہ السلام نے انہیں فرمایا:"عَلَيْكَ بِكَرِيمَةِ اَھل ِ الْبَْيت ِ۔"یعنی کریمہ اہل بیت کی زیارت کی پابندی کروانہوں نے سوچا کہ گویا امام علیہ السلام حضرت فاطمة الزہراء سلام اللہ کی زیارت کی سفارش کررہی ہیں۔ چنانچہ عرض کیا:"میں آپ پر قربان جاؤں میں نے ختم کا چلہ اسی لئے کاٹا ہے کہ میں حضرت فاطمة الزہراء سلام اللہ کی قبرکے صحیح مقام کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔امام علیہ السلام نے فرمایا: میری مراد حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی قبر شریف ہے"۔ پھر حضرت علیہ السلام نے مزید فرمایا:"بعض مصلحتوں کی بنا پر خداوند متعال نے ارادہ فرمایا ہے کہ حضرت زہراسلام اللہ علیہا کی قبر شریف مخفی ہی رہے۔ اگر مشیت الہی یہ ہوتی کہ سیدہ فاطمة الزہراء سلام اللہ علیہا کی قبر ظاہر ہو، تو خدا کی طرف سے اس کے لئے جو جلال و جبروت مقدر ہوتی وہی جلال و جبروت خدا نے حضرت معصومہ کے لئے مقدر کر رکھی ہے"۔ آیت اللہ مرعشى نجفى جاگ اٹھے تو فورا قم میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کی غرض سے قم روانہ ہوئے اور اپنے اہل و عیال کے ہمراہ نجف سے قم تشریف لائے۔(28)اسی بنا پر شیعہ فقہاء، دانشور اور علماء کی زبان میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا "کریمہ اہل بیت" کے لقب سے مشہور ہیں۔دیگر القاب :سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے دو زیارتناموں میں جو اسماء و القاب بیان ہوئے ہیں وہ یہ ہیں:1- طاہرہ (پاک و پاکیزہ)2- حمیدہ (جس کی ستائش اور تعریف ہوئی ہے)3- بِرّہ (نیکوکار)؛4- رشیدہ (ہدایت یافتہ و عاقلہ)5- تقَِّیہ (پرہیزگار)6- رضّیہ (خدا سے راضی)7- مرضیّہ (ان سے خدا راضی و خوشنود ہے)8- سیدہ صدیقہ (بہت زیادہ سچی خاتون)9- سیدہ رضیّہ مرضّیہ (وہ خاتون جو خدا سے راضی ہیں اور خدا بھی ان سے راضی و خوشنود ہے)شفاعت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہابی شک شفاعت کا والاترین اور بالاترین مقام رسول اللہ صلی الله علیه و آله و سلم کا مقام ہے اور آپ صلی الله علیه و آله و سلم کا مقام قرآن مجید میں مقام محمود قراردیا گیا۔(29)اسی طرح خاندان احمد مختار صلی الله علیه و آله و سلم میں دو خواتین کے لئے وسیع شفاعت مقرر ہے، جو بہت ہی وسیع اور عالمگیر ہے اور پورے اہل محشر بھی ان دو عالی مرتبت خواتین کی شفاعت کے دائرے میں داخل ہوسکتے ہیں بشرطیکہ وہ شفاعت کے لائق ہوں۔یہ دو عالیقدر خواتین صدیقہ طاہرہ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور شفیعہ روز جزا، حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا ہیں۔ حضرت ام الحسنین علیہا السلام کے مقام شفاعت جاننے کے لئے یہی جاننا کافی ہے کہ شفاعت آپ سلام اللہ علیہا کا حق مھر ہے اور جب بحکم آلہی آپ علیہ السلام کا نکاح قطب عالم امکان حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام سے ہورہا تھا، قاصد وحی نے خدا کا بھیجا ہؤا شادی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حوالی کیا۔ وہ تحفہ ایک ریشمی کپرا تھا جس پر تحریر تھا: "امت محمد صلی الله علیه و آله و سلم کے گنہگاروں کی شفاعت خداوند عالم نے فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کا حق مہر قرار دیا"، یہ حدیث اہل سنت کے منابع میں بھی نقل ہوئی ہے۔سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کی بعد کسی بھی خاتون کو شفیعہ روز محشر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا مقام شفاعت حاصل نہیں ہے۔ اسی لئے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین دروازے قم کی جانب کھلتے ہیں، میرے فرزندوں میں سے ایک خاتون – جن کا نام فاطمہ ہے – قم میں رحلت فرمائیں گی جن کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ بہشت میں وارد ہونگے"۔حضرت امام رضا علیہ السلام سے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی محبتعرصہ 25 برس تک حضرت رضا علیہ السلام حضرت نجمہ خاتون سلام اللہ علیہا کی اکلوتی فرزند تھی۔ اور 25 سال بعد نجمہ خاتون سلام اللہ علیہا کے دامن مبارک سے ایک ستارہ طلوع ہؤا جس کا نام فاطمہ رکھا گیا۔ امام علیہ السلام نے اپنے والاترین احساساتِ نورانی اپنی کمسن ہمشیرہ کے دل کی اتہاہ مین ودیعت رکھ لین۔ یہ دو بھائی بہن حیرت انگیز حد تک ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور ایک دوسرے کا فراق ان کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ زبان ان دو کے درمیان محبت کی گہرائیاں بیان کرنے سے قاصر ہے۔ امام موسی کاظم علیہ السلام کے ایک معجزے کے دوران – جس میں سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا بھی کردار ہے – جب نصرانی اس کم سن امامزادی سے پوچھتا ہے: "آپ کون ہیں" ؟ تو آپ سلام اللہ علیہا جواب دیتی ہیں: "میں معصومہ ہوں امام رضا علیہ السلام کی ہمشیرہ"۔سیدہ سلام اللہ علیہا کے اس بیان سے دو چیزوں کا اظہار ہوتا ہے: ایک یہ کہ آپ علیہ السلام اپن
20 فروری 2013 - 20:30
News ID: 393031
تاریخ دوسری فاطمہ کا انتظارکررہی ہے۔ انتظار کی گھڑی گذرجاتی ہے اور خانہ خورشید بھینی بھینی خوشبو سے بھرجاتا ہے۔ فاطمہ کے حضور جدید کی ٹھنڈک مدینہ کی فضاؤں پر چھا جاتی ہے اور کوثر سیدہ، وہی چشمہ کوثر پھوٹنے لگتا ہے۔ میں آپ کے حرم کے باغوں میں پناہ لیتا ہوں اور قدرے اس ملکوتی سائے میں سستا لیتا ہوں۔ نہر استجابت کے کنارے بیٹھ جاتا ہوں اور خود ایک قطرہ بن جاتا ہوں اور آپ کے زائرین کے اشکوں کے دریا کے شفاف پانیوں میں آپ کے ضریح مقدس کو عقیدت کے پھولوں کی مالا پہنا دیتا ہوں اور اس کے روزنوں میں سے آپ کی قبر مطہر کا نظارہ کرتا ہوں۔ یقین نہیں آتا! کیا میں اتنی آسانی سے آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہؤا ہوں! جبکہ آپ کی زیارت کوثر مدینہ کی گمشدہ بی بی کی زیارت کے ہم رتبہ ہے۔ !